مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غاصب اسرائیل کے عبرانی چینلز 11، 15 اور 12 نے اعتراف کیا ہے کہ یمن پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یمن میں ایران کا بازو سمجھی جانے والی قوت کا کام تمام ہو چکا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
غاصب صیہونی چینلز کا کہنا ہے کہ حوثی ایک اہم ترین عالمی بحری راستے کو اپنے کنٹرول میں لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس کنٹرول نے انہیں سعودی عرب کے خلاف کہیں زیادہ مؤثر دباؤ کا ذریعہ فراہم کر دیا ہے۔
غاصب صیہونی چینلز نے کہا کہ یہ کامیابی فطری طور پر حوثیوں اور ایران کی حکومت میں ان کے اتحادیوں کو اپنے دشمنوں کو دھمکانے کے لیے مزید اعتماد اور جرأت فراہم کرے گی۔ اب یہ معاملہ آبنائے ہرمز کے ساتھ مل کر امریکہ کے خلاف دباؤ کا ایک اور ذریعہ بن چکا ہے اور ہم تیل کی منڈی پر اس پیش رفت کے فوری اثرات دیکھ رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ